سبإ 34:43 واذا تتلى عليهم اياتنا بينات قالوا ما هاذا الا رجل يريد ان يصدكم عما كان يعبد اباوكم وقالوا ما هاذا الا افك مفترى وقال الذين كفروا للحق لما جاءهم ان هاذا الا سحر مبين ٤٣
وَاِذَا
تُتْلٰی
عَلَیْهِمْ
اٰیٰتُنَا
بَیِّنٰتٍ
قَالُوْا
مَا
هٰذَاۤ
اِلَّا
رَجُلٌ
یُّرِیْدُ
اَنْ
یَّصُدَّكُمْ
عَمَّا
كَانَ
یَعْبُدُ
اٰبَآؤُكُمْ ۚ
وَقَالُوْا
مَا
هٰذَاۤ
اِلَّاۤ
اِفْكٌ
مُّفْتَرًی ؕ
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لِلْحَقِّ
لَمَّا
جَآءَهُمْ ۙ
اِنْ
هٰذَاۤ
اِلَّا
سِحْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟
اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو وہ (آپس میں ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ۔ } اور ان کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ یہ ان کے پاس آگیا کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک کھلا ہواجادو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭…
کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں۔ قبول کرنا ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھ
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭…
کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس