سبإ 34:50 قل ان ضللت فانما اضل على نفسي وان اهتديت فبما يوحي الي ربي انه سميع قريب ٥٠
قُلْ
اِنْ
ضَلَلْتُ
فَاِنَّمَاۤ
اَضِلُّ
عَلٰی
نَفْسِیْ ۚ
وَاِنِ
اهْتَدَیْتُ
فَبِمَا
یُوْحِیْۤ
اِلَیَّ
رَبِّیْ ؕ
اِنَّهٗ
سَمِیْعٌ
قَرِیْبٌ
۟
کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا1 ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭…
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔
پھر جو فرمایا
مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭…
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں