سبإ 34:8 افترى على الله كذبا ام به جنة بل الذين لا يومنون بالاخرة في العذاب والضلال البعيد ٨
اَفْتَرٰی
عَلَی
اللّٰهِ
كَذِبًا
اَمْ
بِهٖ
جِنَّةٌ ؕ
بَلِ
الَّذِیْنَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
بِالْاٰخِرَةِ
فِی
الْعَذَابِ
وَالضَّلٰلِ
الْبَعِیْدِ
۟
نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھُوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنُون لاحق ہے۔“ 1 نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے ہیں۔ 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کی جہالت ٭٭…
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو ج
کافروں کی جہالت ٭٭…
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات