ص 38:24 قال لقد ظلمك بسوال نعجتك الى نعاجه وان كثيرا من الخلطاء ليبغي بعضهم على بعض الا الذين امنوا وعملوا الصالحات وقليل ما هم وظن داوود انما فتناه فاستغفر ربه وخر راكعا واناب ۩ ٢٤
قَالَ
لَقَدْ
ظَلَمَكَ
بِسُؤَالِ
نَعْجَتِكَ
اِلٰی
نِعَاجِهٖ ؕ
وَاِنَّ
كَثِیْرًا
مِّنَ
الْخُلَطَآءِ
لَیَبْغِیْ
بَعْضُهُمْ
عَلٰی
بَعْضٍ
اِلَّا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
وَقَلِیْلٌ
مَّا
هُمْ ؕ
وَظَنَّ
دَاوٗدُ
اَنَّمَا
فَتَنّٰهُ
فَاسْتَغْفَرَ
رَبَّهٗ
وَخَرَّ
رَاكِعًا
وَّاَنَابَ
۟
دائود ؑ نے کہا کہ یہ تو واقعتا اس نے بہت ظلم کیا ہے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کر کے۔ اور یقینا مشترک معاملہ رکھنے والوں میں سے اکثر ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو صاحب ِ ایمان اور نیک عمل والے ہوں اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ اور دائود ؑ کو اچانک خیال آیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے تو اس نے (فوراً) اپنے رب سے استغفار کیا اور اس کے حضور جھک گیا پوری طرح متوجہ ہو کر۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔
پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ
باب…
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیک