ص 38:6 وانطلق الملا منهم ان امشوا واصبروا على الهتكم ان هاذا لشيء يراد ٦
وَانْطَلَقَ
الْمَلَاُ
مِنْهُمْ
اَنِ
امْشُوْا
وَاصْبِرُوْا
عَلٰۤی
اٰلِهَتِكُمْ ۖۚ
اِنَّ
هٰذَا
لَشَیْءٌ
یُّرَادُ
۟ۖۚ
اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نِکل گئے 1 کہ ”چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر۔ یہ بات 2 تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔ 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تعجب ٭٭…
حضور علیہ السلام کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّ
مشرکین کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تعجب ٭٭…
حضور علیہ السلام کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان ل