طه 20:117 فقلنا يا ادم ان هاذا عدو لك ولزوجك فلا يخرجنكما من الجنة فتشقى ١١٧
فَقُلْنَا
یٰۤاٰدَمُ
اِنَّ
هٰذَا
عَدُوٌّ
لَّكَ
وَلِزَوْجِكَ
فَلَا
یُخْرِجَنَّكُمَا
مِنَ
الْجَنَّةِ
فَتَشْقٰی
۟
تو ہم نے کہا : اے آدم ؑ ! یقیناً یہ دشمن ہے تمہارا بھی اور تمہاری بیوی کا بھی تو (دیکھو !) یہ تم دونوں کو کہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ