طه 20:121 فاكلا منها فبدت لهما سواتهما وطفقا يخصفان عليهما من ورق الجنة وعصى ادم ربه فغوى ١٢١
فَاَكَلَا
مِنْهَا
فَبَدَتْ
لَهُمَا
سَوْاٰتُهُمَا
وَطَفِقَا
یَخْصِفٰنِ
عَلَیْهِمَا
مِنْ
وَّرَقِ
الْجَنَّةِ ؗ
وَعَصٰۤی
اٰدَمُ
رَبَّهٗ
فَغَوٰی
۪۟ۖ
چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا.1
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق نبی کریم ص
باب…
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا