طه 20:131 ولا تمدن عينيك الى ما متعنا به ازواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وابقى ١٣١
وَلَا
تَمُدَّنَّ
عَیْنَیْكَ
اِلٰی
مَا
مَتَّعْنَا
بِهٖۤ
اَزْوَاجًا
مِّنْهُمْ
زَهْرَةَ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ۙ۬
لِنَفْتِنَهُمْ
فِیْهِ ؕ
وَرِزْقُ
رَبِّكَ
خَیْرٌ
وَّاَبْقٰی
۟
اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں1 تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور باقی رہنے واﻻ ہے.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شکر یا تکبر؟ ٭٭…
ان کفار کی دنیاوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں؟ حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے
شکر یا تکبر؟ ٭٭…
ان کفار کی دنیاوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ا