طه 20:47 فاتياه فقولا انا رسولا ربك فارسل معنا بني اسراييل ولا تعذبهم قد جيناك باية من ربك والسلام على من اتبع الهدى ٤٧
فَاْتِیٰهُ
فَقُوْلَاۤ
اِنَّا
رَسُوْلَا
رَبِّكَ
فَاَرْسِلْ
مَعَنَا
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ ۙ۬
وَلَا
تُعَذِّبْهُمْ ؕ
قَدْ
جِئْنٰكَ
بِاٰیَةٍ
مِّنْ
رَّبِّكَ ؕ
وَالسَّلٰمُ
عَلٰی
مَنِ
اتَّبَعَ
الْهُدٰی
۟
پس تم اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو نہ ستا ہم تیرے رب کے پاس سے ایک نشانی بھی لائے ہیں اورسلامتی اس شخص کے ليے ہے جو ہدایت کی پیروی کرے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭…
اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصاف
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭…
اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ ف