طه 20:71 قال امنتم له قبل ان اذن لكم انه لكبيركم الذي علمكم السحر فلاقطعن ايديكم وارجلكم من خلاف ولاصلبنكم في جذوع النخل ولتعلمن اينا اشد عذابا وابقى ٧١
قَالَ
اٰمَنْتُمْ
لَهٗ
قَبْلَ
اَنْ
اٰذَنَ
لَكُمْ ؕ
اِنَّهٗ
لَكَبِیْرُكُمُ
الَّذِیْ
عَلَّمَكُمُ
السِّحْرَ ۚ
فَلَاُقَطِّعَنَّ
اَیْدِیَكُمْ
وَاَرْجُلَكُمْ
مِّنْ
خِلَافٍ
وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ
فِیْ
جُذُوْعِ
النَّخْلِ ؗ
وَلَتَعْلَمُنَّ
اَیُّنَاۤ
اَشَدُّ
عَذَابًا
وَّاَبْقٰی
۟
فرعون نے کہا”تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گُرو ہے جس نے تمہیں جادُوگری سکھائی تھی۔ 1 اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں 2 اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں۔ 3 پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے 4“ (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭…
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭…
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھ