طه 20:72 قالوا لن نوثرك على ما جاءنا من البينات والذي فطرنا فاقض ما انت قاض انما تقضي هاذه الحياة الدنيا ٧٢
قَالُوْا
لَنْ
نُّؤْثِرَكَ
عَلٰی
مَا
جَآءَنَا
مِنَ
الْبَیِّنٰتِ
وَالَّذِیْ
فَطَرَنَا
فَاقْضِ
مَاۤ
اَنْتَ
قَاضٍ ؕ
اِنَّمَا
تَقْضِیْ
هٰذِهِ
الْحَیٰوةَ
الدُّنْیَا
۟ؕ
’ یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰ ۔ جادوگروں نے جواب دیا۔ ” قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں اسامنے آنے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں۔ تو جو کچھ کرنا چاہئے کرلے۔ تو زیادہ سے زیادہ بس اسی دنیا کی زنگدی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭…
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر
نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭…
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھ