طه 20:81 كلوا من طيبات ما رزقناكم ولا تطغوا فيه فيحل عليكم غضبي ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى ٨١
كُلُوْا
مِنْ
طَیِّبٰتِ
مَا
رَزَقْنٰكُمْ
وَلَا
تَطْغَوْا
فِیْهِ
فَیَحِلَّ
عَلَیْكُمْ
غَضَبِیْ ۚ
وَمَنْ
یَّحْلِلْ
عَلَیْهِ
غَضَبِیْ
فَقَدْ
هَوٰی
۟
تم ہماری دی ہوئی پاکیزه روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو1 ، ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احسانات کی یاد دہانی ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «وَأَغْرَقْنَا
احسانات کی یاد دہانی ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشم