طه 20:86 فرجع موسى الى قومه غضبان اسفا قال يا قوم الم يعدكم ربكم وعدا حسنا افطال عليكم العهد ام اردتم ان يحل عليكم غضب من ربكم فاخلفتم موعدي ٨٦
فَرَجَعَ
مُوْسٰۤی
اِلٰی
قَوْمِهٖ
غَضْبَانَ
اَسِفًا ۚ۬
قَالَ
یٰقَوْمِ
اَلَمْ
یَعِدْكُمْ
رَبُّكُمْ
وَعْدًا
حَسَنًا ؕ۬
اَفَطَالَ
عَلَیْكُمُ
الْعَهْدُ
اَمْ
اَرَدْتُّمْ
اَنْ
یَّحِلَّ
عَلَیْكُمْ
غَضَبٌ
مِّنْ
رَّبِّكُمْ
فَاَخْلَفْتُمْ
مَّوْعِدِیْ
۟
پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعده نہیں کیا 1 تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی2؟ بلکہ تمہارا اراده ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں او
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی