طه 20:87 قالوا ما اخلفنا موعدك بملكنا ولاكنا حملنا اوزارا من زينة القوم فقذفناها فكذالك القى السامري ٨٧
قَالُوْا
مَاۤ
اَخْلَفْنَا
مَوْعِدَكَ
بِمَلْكِنَا
وَلٰكِنَّا
حُمِّلْنَاۤ
اَوْزَارًا
مِّنْ
زِیْنَةِ
الْقَوْمِ
فَقَذَفْنٰهَا
فَكَذٰلِكَ
اَلْقَی
السَّامِرِیُّ
۟ۙ
انہوں نے جواب دیا”ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا“ 1۔۔۔۔ 2 پھر اِسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں او
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی