طه 20:94 قال يا ابن ام لا تاخذ بلحيتي ولا براسي اني خشيت ان تقول فرقت بين بني اسراييل ولم ترقب قولي ٩٤
قَالَ
یَبْنَؤُمَّ
لَا
تَاْخُذْ
بِلِحْیَتِیْ
وَلَا
بِرَاْسِیْ ۚ
اِنِّیْ
خَشِیْتُ
اَنْ
تَقُوْلَ
فَرَّقْتَ
بَیْنَ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
وَلَمْ
تَرْقُبْ
قَوْلِیْ
۟
ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں1 کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پردے ماریں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدی
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پردے ماریں اور اپنے بھائی ہارون علیہ