طه 20:96 قال بصرت بما لم يبصروا به فقبضت قبضة من اثر الرسول فنبذتها وكذالك سولت لي نفسي ٩٦
قَالَ
بَصُرْتُ
بِمَا
لَمْ
یَبْصُرُوْا
بِهٖ
فَقَبَضْتُ
قَبْضَةً
مِّنْ
اَثَرِ
الرَّسُوْلِ
فَنَبَذْتُهَا
وَكَذٰلِكَ
سَوَّلَتْ
لِیْ
نَفْسِیْ
۟
اس نے جواب دیا”میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی اُٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا۔“ 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کر
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔