طه 20:97 قال فاذهب فان لك في الحياة ان تقول لا مساس وان لك موعدا لن تخلفه وانظر الى الاهك الذي ظلت عليه عاكفا لنحرقنه ثم لننسفنه في اليم نسفا ٩٧
قَالَ
فَاذْهَبْ
فَاِنَّ
لَكَ
فِی
الْحَیٰوةِ
اَنْ
تَقُوْلَ
لَا
مِسَاسَ ۪
وَاِنَّ
لَكَ
مَوْعِدًا
لَّنْ
تُخْلَفَهٗ ۚ
وَانْظُرْ
اِلٰۤی
اِلٰهِكَ
الَّذِیْ
ظَلْتَ
عَلَیْهِ
عَاكِفًا ؕ
لَنُحَرِّقَنَّهٗ
ثُمَّ
لَنَنْسِفَنَّهٗ
فِی
الْیَمِّ
نَسْفًا
۟
کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا1 ، اور ایک اور بھی وعده تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا2، اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کیے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزه ریزه اڑا دیں گے.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کر
گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔