يس 36:19 قالوا طايركم معكم اين ذكرتم بل انتم قوم مسرفون ١٩
قَالُوْا
طَآىِٕرُكُمْ
مَّعَكُمْ ؕ
اَىِٕنْ
ذُكِّرْتُمْ ؕ
بَلْ
اَنْتُمْ
قَوْمٌ
مُّسْرِفُوْنَ
۟
Rasoolon ne jawab diya “tumhari faal-e-badd (nahusat) to tumhare apne saath lagi hui hai , kya yeh baatein tum isliye karte ho ke tumhein naseehat ki gayi? Asal baat yeh hai ke tum hadd se guzre huey log ho”
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
رسولوں کا جواب ٭٭…
رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یہی بات فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی توکہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا
رسولوں کا جواب ٭٭…
رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یہی ب