يس 36:47 واذا قيل لهم انفقوا مما رزقكم الله قال الذين كفروا للذين امنوا انطعم من لو يشاء الله اطعمه ان انتم الا في ضلال مبين ٤٧
وَاِذَا
قِیْلَ
لَهُمْ
اَنْفِقُوْا
مِمَّا
رَزَقَكُمُ
اللّٰهُ ۙ
قَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لِلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اَنُطْعِمُ
مَنْ
لَّوْ
یَشَآءُ
اللّٰهُ
اَطْعَمَهٗۤ ۖۗ
اِنْ
اَنْتُمْ
اِلَّا
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرو1 ، تو یہ کفار ایمان والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا پلا دیتا2، تم تو ہو ہی کھلی گمراہی میں.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کا تکبر ٭٭…
کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہونا تو درکنار ایک طر
کفار کا تکبر ٭٭…
کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ