يونس 10:12 واذا مس الانسان الضر دعانا لجنبه او قاعدا او قايما فلما كشفنا عنه ضره مر كان لم يدعنا الى ضر مسه كذالك زين للمسرفين ما كانوا يعملون ١٢
وَاِذَا
مَسَّ
الْاِنْسَانَ
الضُّرُّ
دَعَانَا
لِجَنْۢبِهٖۤ
اَوْ
قَاعِدًا
اَوْ
قَآىِٕمًا ۚ
فَلَمَّا
كَشَفْنَا
عَنْهُ
ضُرَّهٗ
مَرَّ
كَاَنْ
لَّمْ
یَدْعُنَاۤ
اِلٰی
ضُرٍّ
مَّسَّهٗ ؕ
كَذٰلِكَ
زُیِّنَ
لِلْمُسْرِفِیْنَ
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
اور جب پہنچے انسان کو تکلیف پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر اسی طرح پسند آیا ہے بیباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ٭٭…
اسی آیت جیسی یہ آیت ہے: «وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ» [41-فصلت:51] یعنی ” جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے “۔
ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہ
مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ٭٭…
اسی آیت جیسی یہ آیت ہے: «وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ» [41-فصلت:51] یعنی ” جب انسان