يونس 10:2 اكان للناس عجبا ان اوحينا الى رجل منهم ان انذر الناس وبشر الذين امنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم قال الكافرون ان هاذا لساحر مبين ٢
اَكَانَ
لِلنَّاسِ
عَجَبًا
اَنْ
اَوْحَیْنَاۤ
اِلٰی
رَجُلٍ
مِّنْهُمْ
اَنْ
اَنْذِرِ
النَّاسَ
وَبَشِّرِ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اَنَّ
لَهُمْ
قَدَمَ
صِدْقٍ
عِنْدَ
رَبِّهِمْ ؔؕ
قَالَ
الْكٰفِرُوْنَ
اِنَّ
هٰذَا
لَسٰحِرٌ
مُّبِیْنٌ
۟
کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے ربّ کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟1 (کیا یہی وہ بات ہے جس پر ) منکرینِ نے کہا کہ یہ شخص تو کھُلا جادوگر ہے؟2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عقل زدہ کافر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے، کہتے تھے کہ «فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» [64-التغابن:6] ” کیا بشر ہمارا ہادی ہوگا؟ “
حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «أَوَعَج
عقل زدہ کافر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭…
کافروں کو اس پر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ ایک انسان اللہ کا رسول بن جائے، کہتے تھے کہ «فَقَالُوا أَبَشَرٌ