يونس 10:21 واذا اذقنا الناس رحمة من بعد ضراء مستهم اذا لهم مكر في اياتنا قل الله اسرع مكرا ان رسلنا يكتبون ما تمكرون ٢١
وَاِذَاۤ
اَذَقْنَا
النَّاسَ
رَحْمَةً
مِّنْ
بَعْدِ
ضَرَّآءَ
مَسَّتْهُمْ
اِذَا
لَهُمْ
مَّكْرٌ
فِیْۤ
اٰیَاتِنَا ؕ
قُلِ
اللّٰهُ
اَسْرَعُ
مَكْرًا ؕ
اِنَّ
رُسُلَنَا
یَكْتُبُوْنَ
مَا
تَمْكُرُوْنَ
۟
اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کامزه چکھا دیتے ہیں1 تو وه فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں2، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیاده تیز ہے3، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احسان فراموش انسان ٭٭…
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر دیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا نہیں دیکھتا “۔
رات کو بارش ہوئی، صبح کو
احسان فراموش انسان ٭٭…
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر