يونس 10:23 فلما انجاهم اذا هم يبغون في الارض بغير الحق يا ايها الناس انما بغيكم على انفسكم متاع الحياة الدنيا ثم الينا مرجعكم فننبيكم بما كنتم تعملون ٢٣
فَلَمَّاۤ
اَنْجٰىهُمْ
اِذَا
هُمْ
یَبْغُوْنَ
فِی
الْاَرْضِ
بِغَیْرِ
الْحَقِّ ؕ
یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ
اِنَّمَا
بَغْیُكُمْ
عَلٰۤی
اَنْفُسِكُمْ ۙ
مَّتَاعَ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ؗ
ثُمَّ
اِلَیْنَا
مَرْجِعُكُمْ
فَنُنَبِّئُكُمْ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو فوراً ہی بغاوت کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق جونہی خطرے کی گھڑی ٹل جاتی ہے تو پھر انہیں دیویاں دیوتا یاد آجاتے ہیں اور پھر سے اللہ سے سرکشی شروع ہوجاتی ہے۔ اے لوگو ! تمہاری اس بغاوت کا وبال تمہاری اپنی ہی جانوں پر آئے گا یہ دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے (اسے برت لو) پھر ہماری ہی طرف تم سب کو لوٹنا ہے پھر ہم تم کو بتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احسان فراموش انسان ٭٭…
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر دیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا نہیں دیکھتا “۔
رات کو بارش ہوئی، صبح کو
احسان فراموش انسان ٭٭…
انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر