يونس 10:98 فلولا كانت قرية امنت فنفعها ايمانها الا قوم يونس لما امنوا كشفنا عنهم عذاب الخزي في الحياة الدنيا ومتعناهم الى حين ٩٨
فَلَوْلَا
كَانَتْ
قَرْیَةٌ
اٰمَنَتْ
فَنَفَعَهَاۤ
اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا
قَوْمَ
یُوْنُسَ ؕ
لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا
كَشَفْنَا
عَنْهُمْ
عَذَابَ
الْخِزْیِ
فِی
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
وَمَتَّعْنٰهُمْ
اِلٰی
حِیْنٍ
۟
تو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی جو ایمان لاتی اور اسے اس کا ایمان نفع پہنچاتا سوائے قوم یونس کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ہٹا دیا ان سے دنیا کی زندگی میں وہ رسوا کن عذاب اور ایک وقت معین کے لیے ہم نے انہیں (فوائدِ دنیوی سے) بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی ٭٭…
کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی علیہ السلام پر کبھی ایمان نہیں لائے، یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورۃ یٰسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» [36-یس:30] ” بندوں پر افسوس ہے ان
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی ٭٭…
کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی علیہ السلام پر کبھی ایمان نہیں لائے، یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورۃ یٰس