يوسف 12:100 ورفع ابويه على العرش وخروا له سجدا وقال يا ابت هاذا تاويل روياي من قبل قد جعلها ربي حقا وقد احسن بي اذ اخرجني من السجن وجاء بكم من البدو من بعد ان نزغ الشيطان بيني وبين اخوتي ان ربي لطيف لما يشاء انه هو العليم الحكيم ١٠٠
وَرَفَعَ
اَبَوَیْهِ
عَلَی
الْعَرْشِ
وَخَرُّوْا
لَهٗ
سُجَّدًا ۚ
وَقَالَ
یٰۤاَبَتِ
هٰذَا
تَاْوِیْلُ
رُءْیَایَ
مِنْ
قَبْلُ ؗ
قَدْ
جَعَلَهَا
رَبِّیْ
حَقًّا ؕ
وَقَدْ
اَحْسَنَ
بِیْۤ
اِذْ
اَخْرَجَنِیْ
مِنَ
السِّجْنِ
وَجَآءَ
بِكُمْ
مِّنَ
الْبَدْوِ
مِنْ
بَعْدِ
اَنْ
نَّزَغَ
الشَّیْطٰنُ
بَیْنِیْ
وَبَیْنَ
اِخْوَتِیْ ؕ
اِنَّ
رَبِّیْ
لَطِیْفٌ
لِّمَا
یَشَآءُ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْعَلِیْمُ
الْحَكِیْمُ
۟
(شہر میں داخل ہونے کے بعد)اس نے اپنے والدین کو اُٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے۔1 یُوسُف ؑ نے کہا”ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے ربّ نے اسے حقیقت بنا دیا۔ اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا ربّ غیر محسُوس تدبیروں سے اپنی مشیّت پُوری کرتا ہے، بے شک وہ علیم اور حکیم ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
بھائیوں پر یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ یوسف علیہ السلام بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لیے چلے اور حکم
باب…
بھائیوں پر یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے ن