يوسف 12:110 حتى اذا استياس الرسل وظنوا انهم قد كذبوا جاءهم نصرنا فنجي من نشاء ولا يرد باسنا عن القوم المجرمين ١١٠
حَتّٰۤی
اِذَا
اسْتَیْـَٔسَ
الرُّسُلُ
وَظَنُّوْۤا
اَنَّهُمْ
قَدْ
كُذِبُوْا
جَآءَهُمْ
نَصْرُنَا ۙ
فَنُجِّیَ
مَنْ
نَّشَآءُ ؕ
وَلَا
یُرَدُّ
بَاْسُنَا
عَنِ
الْقَوْمِ
الْمُجْرِمِیْنَ
۟
یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے رسول اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا پہنچی انکو ہماری مدد پھر بچا دیا جنکو ہم نے چاہا اور پھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گنہگار سے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جب مخالفت عروج پر ہو ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی مدد اس کے رسولوں پر بروقت اترتی ہے۔ دنیا کے جھٹکے جب زوروں پر ہوتے ہیں، مخالفت جب تن جاتی ہے، اختلاف جب بڑھ جاتا ہے، دشمنی جب پوری ہو جاتی ہے، انبیاء اللہ کو جب چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے، معاً اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ «كُذِبُوا» اور «كُذ
جب مخالفت عروج پر ہو ٭٭…
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی مدد اس کے رسولوں پر بروقت اترتی ہے۔ دنیا کے جھٹکے جب زوروں پر ہوتے ہیں، مخالفت جب تن جاتی ہے،