يوسف 12:21 وقال الذي اشتراه من مصر لامراته اكرمي مثواه عسى ان ينفعنا او نتخذه ولدا وكذالك مكنا ليوسف في الارض ولنعلمه من تاويل الاحاديث والله غالب على امره ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٢١
وَقَالَ
الَّذِی
اشْتَرٰىهُ
مِنْ
مِّصْرَ
لِامْرَاَتِهٖۤ
اَكْرِمِیْ
مَثْوٰىهُ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّنْفَعَنَاۤ
اَوْ
نَتَّخِذَهٗ
وَلَدًا ؕ
وَكَذٰلِكَ
مَكَّنَّا
لِیُوْسُفَ
فِی
الْاَرْضِ ؗ
وَلِنُعَلِّمَهٗ
مِنْ
تَاْوِیْلِ
الْاَحَادِیْثِ ؕ
وَاللّٰهُ
غَالِبٌ
عَلٰۤی
اَمْرِهٖ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بازار مصر سے شاہی محل تک ٭٭…
رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ علیہ السلام کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ علیہ السلام کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔
بازار مصر سے شاہی محل تک ٭٭…
رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ علیہ السلام کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کی عزت و وقعت ڈال دی