يوسف 12:30 ۞ وقال نسوة في المدينة امرات العزيز تراود فتاها عن نفسه قد شغفها حبا انا لنراها في ضلال مبين ٣٠
وَقَالَ
نِسْوَةٌ
فِی
الْمَدِیْنَةِ
امْرَاَتُ
الْعَزِیْزِ
تُرَاوِدُ
فَتٰىهَا
عَنْ
نَّفْسِهٖ ۚ
قَدْ
شَغَفَهَا
حُبًّا ؕ
اِنَّا
لَنَرٰىهَا
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
اور کہنے لگیں عورتیں اس شہر میں عزیز کی عورت خواہش کرتی ہے اپنے غلام سے اسکے جی کو فریفتہ ہو گیا اس کا دل اسکی محبت میں ہم تو دیکھتے ہیں اسکو صریح خطا پر 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭…
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوت
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭…
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی