يوسف 12:36 ودخل معه السجن فتيان قال احدهما اني اراني اعصر خمرا وقال الاخر اني اراني احمل فوق راسي خبزا تاكل الطير منه نبينا بتاويله انا نراك من المحسنين ٣٦
وَدَخَلَ
مَعَهُ
السِّجْنَ
فَتَیٰنِ ؕ
قَالَ
اَحَدُهُمَاۤ
اِنِّیْۤ
اَرٰىنِیْۤ
اَعْصِرُ
خَمْرًا ۚ
وَقَالَ
الْاٰخَرُ
اِنِّیْۤ
اَرٰىنِیْۤ
اَحْمِلُ
فَوْقَ
رَاْسِیْ
خُبْزًا
تَاْكُلُ
الطَّیْرُ
مِنْهُ ؕ
نَبِّئْنَا
بِتَاْوِیْلِهٖ ۚ
اِنَّا
نَرٰىكَ
مِنَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
قید خانہ میں1 دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے۔2 ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشِید کر رہا ہوں۔“ دُوسرے نے کہا”میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں۔“ دونوں نے کہا ”ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔“3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جیل خانہ میں بادشاہ کے باورچی اور ساقی سے ملاقات ٭٭…
اتفاق سے جس روز یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ جانا پڑا اسی دن باشاہ کا ساقی اور نان بائی بھی کسی جرم میں جیل خانے بھیج دیئے گئے۔ ساقی کا نام بندار تھا اور باورچی کا نام مجلث تھا۔ ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں بادشاہ کو زہر دینے کی ساز
جیل خانہ میں بادشاہ کے باورچی اور ساقی سے ملاقات ٭٭…
اتفاق سے جس روز یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ جانا پڑا اسی دن باشاہ کا ساقی اور نان بائی بھی کسی جرم