يوسف 12:67 وقال يا بني لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقة وما اغني عنكم من الله من شيء ان الحكم الا لله عليه توكلت وعليه فليتوكل المتوكلون ٦٧
وَقَالَ
یٰبَنِیَّ
لَا
تَدْخُلُوْا
مِنْ
بَابٍ
وَّاحِدٍ
وَّادْخُلُوْا
مِنْ
اَبْوَابٍ
مُّتَفَرِّقَةٍ ؕ
وَمَاۤ
اُغْنِیْ
عَنْكُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ ؕ
اِنِ
الْحُكْمُ
اِلَّا
لِلّٰهِ ؕ
عَلَیْهِ
تَوَكَّلْتُ ۚ
وَعَلَیْهِ
فَلْیَتَوَكَّلِ
الْمُتَوَكِّلُوْنَ
۟
اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا1 ۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے2۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
چونکہ اللہ کے نبی نے یعقوب علیہ السلام کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لیے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ
باب…
چونکہ اللہ کے نبی نے یعقوب علیہ السلام کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان ت