يوسف 12:68 ولما دخلوا من حيث امرهم ابوهم ما كان يغني عنهم من الله من شيء الا حاجة في نفس يعقوب قضاها وانه لذو علم لما علمناه ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٦٨
وَلَمَّا
دَخَلُوْا
مِنْ
حَیْثُ
اَمَرَهُمْ
اَبُوْهُمْ ؕ
مَا
كَانَ
یُغْنِیْ
عَنْهُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ
اِلَّا
حَاجَةً
فِیْ
نَفْسِ
یَعْقُوْبَ
قَضٰىهَا ؕ
وَاِنَّهٗ
لَذُوْ
عِلْمٍ
لِّمَا
عَلَّمْنٰهُ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠
جب وه انہی راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا، گئے۔ کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وه اس سے انہیں ذرا بھی بچا لے۔ مگر یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کر لیا1 ، بلاشبہ وه ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
چونکہ اللہ کے نبی نے یعقوب علیہ السلام کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لیے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ
باب…
چونکہ اللہ کے نبی نے یعقوب علیہ السلام کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان ت