يوسف 12:70 فلما جهزهم بجهازهم جعل السقاية في رحل اخيه ثم اذن موذن ايتها العير انكم لسارقون ٧٠
فَلَمَّا
جَهَّزَهُمْ
بِجَهَازِهِمْ
جَعَلَ
السِّقَایَةَ
فِیْ
رَحْلِ
اَخِیْهِ
ثُمَّ
اَذَّنَ
مُؤَذِّنٌ
اَیَّتُهَا
الْعِیْرُ
اِنَّكُمْ
لَسٰرِقُوْنَ
۟
پھر جب انہیں ان کا سامان اسباب ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی پینے کا پیالہ1 رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے2 والو! تم لوگ تو چور ہو.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویس
باب…
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی