يوسف 12:90 قالوا اانك لانت يوسف قال انا يوسف وهاذا اخي قد من الله علينا انه من يتق ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين ٩٠
قَالُوْۤا
ءَاِنَّكَ
لَاَنْتَ
یُوْسُفُ ؕ
قَالَ
اَنَا
یُوْسُفُ
وَهٰذَاۤ
اَخِیْ ؗ
قَدْ
مَنَّ
اللّٰهُ
عَلَیْنَا ؕ
اِنَّهٗ
مَنْ
یَّتَّقِ
وَیَصْبِرْ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یُضِیْعُ
اَجْرَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے1 ۔ جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر فضل وکرم کیا، بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
جب بھائی یوسف علیہ السلام کے پاس اس عاجزی اور بے بسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو یوسف علیہ السلام کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ ک
باب…
جب بھائی یوسف علیہ السلام کے پاس اس عاجزی اور بے بسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں ت